خیبر پختونخوا رمضان پیکج میں 13 ارب روپے کی متنازع تقسیم، شفافیت اور میرٹ پر سوالات
خیبر پختونخوا میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت مختص 13 ارب روپے کی تقسیم کے طریقہ کار پر سنگین اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امداد کی فہرستیں تیار کرنے کا اختیار منتخب نمائندوں کو دیا گیا، جہاں ہر صوبائی رک...
مزید یہ کہ اس عمل میں ہارنے والے امیدواروں اور پارٹی عہدیداروں کو بھی شامل کیا گیا جبکہ اپوزیشن کو باہر رکھا گیا، جس سے تقسیم کے عمل پر جانبداری کا تاثر مضبوط ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرکاری فنڈز کی اس طرح تقسیم نہ صرف شفافیت بلکہ انصاف کے اصولوں کے بھی خلاف سمجھی جا رہی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امداد حقیقی مستحقین کے بجائے سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہو سکتی ہے۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ گفتگو شروع کریں۔