خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں صحت کے شعبے کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صوبے کے 19 آؤٹ سورسڈ اسپتال فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گئے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ان اسپتالوں کو تقریباً 1 ارب روپے کی ادائیگی کرنا تھی، تاہم کئی ماہ تک فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث اسپتالوں کی انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ان اسپتالوں کے ملازمین کو چھ ماہ تک تنخواہیں ادا نہیں کی جا سکیں اور کئی بنیادی طبی خدمات متاثر ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے مالیاتی مسائل ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کو شدید متاثر کر رہے ہیں اور یہ انتظامی و مالیاتی گورننس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔