خیبرپختونخوا میں سرکاری ڈیجیٹل میپنگ کے دوران بڑے پیمانے پر زمینوں پر قبضوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں تقریباً 80,000 ایکڑ سرکاری زمین اور تقریباً 6 لاکھ ایکڑ جنگلاتی زمین غیر قانونی استعمال یا قبضے میں پائی گئی۔ ان زمینوں پر رہائشی، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لیے تعمیرات کی گئی ہیں، جس سے قومی وسائل کو نقصان پہنچا۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زمینوں کے ریکارڈ، نگرانی اور انسدادِ تجاوزات کے نظام میں مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ جنگلاتی زمینوں پر قبضے نہ صرف ماحولیاتی توازن کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سیلاب اور موسمیاتی خطرات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ اس کو صوبے میں بیڈ گورننس اور کرپشن کی ایک بڑی مثال سمجھا جارہا ہے۔
UR