آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے صحت کارڈ پر اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس کے مطابق صرف پختونخواہ میں صحت کارڈ پر 2018 سے 2021 تک 29 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ 10 اضلاع میں صحت کارڈ پینل میں شامل کئے گئے 48 میں سے 17 ہسپتال رجسٹرڈ بھی نہیں تھے۔ بعض ہسپتال تو ہیلتھ کیئر کمیشن کے پینل پر بھی نہیں۔
صرف ایک ہی ضلع میں %70 اپینڈکس آپریشن ہوئے جب کہ کئی ہسپتالوں میں متعلقہ ڈاکٹر تک موجود نہیں تھے لیکن آپریشن رجسٹر ہوئے۔ اکثریتی مریضوں کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں۔
دیر کے ایک نجی ہسپتال میں صرف ایک ہی سال میں 1800 سے زائد اپینڈکس کے "آپریشن " ہوئے۔ اسی ہسپتال میں خاندان کے تمام افراد کا اپینڈکس آپریشن بھی ہوا۔
UR
No comments yet. Start the discussion.