March 24, 2026
خیبر پختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی خریداری کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صوبے کے 24 ہسپتالوں میں تقریباً 1 ارب 35 کروڑ روپے کی ادویات مالی قواعد کے خلاف خریدی گئیں، جس پر متعلقہ حکام نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ کئی ہسپتالوں میں ادویات زیادہ قیمت پر خریدی گئیں اور بعض ادائیگیاں لیبارٹری تصدیق کے بغیر کی گئیں۔ مزید یہ کہ مقررہ طریقہ کار کے برعکس مقامی سطح پر مہنگی خریداری کی گئی اور بجٹ کا بڑا حصہ قبل از وقت خرچ کر دیا گیا، جس سے آئندہ ادویات کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صحت کے نظام میں نگرانی اور مالی نظم و ضبط کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔