خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع میں بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ترقیاتی رپورٹس کے مطابق صوبے میں تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ افراد کو قریبی صحت مرکز تک پہنچنے کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ سفر کرنا پڑتا ہے، جس کی بڑی وجہ دیہی علاقوں میں صحت مراکز کی کمی اور کمزور انفراسٹرکچر ہے۔
مزید یہ کہ کئی بنیادی صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی سینکڑوں آسامیاں خالی ہیں جس کے باعث مریضوں کو بروقت علاج میسر نہیں آتا۔ ماہرین کے مطابق صحت کے نظام میں یہ خلا خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے اور اسے صوبے میں صحت کے شعبے کی منصوبہ بندی اور سہولیات کی فراہمی میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی سمجھا جاتا ہے۔