پشاور، مردان، نوشہرہ اور دیگر علاقوں میں بجلی کے طویل بلا اعلان بند ہونے اور کم وولٹیج کی صورتحال نے عوامی زندگی پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ گھروں میں فریج، پنکھے اور دیگر ضروری آلات نہ چل پاتے ہیں، کاروباری اداروں کا روزمرہ آپریشن متاثر ہوا ہے، اور طالب علموں کو پڑھائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لوڈشیڈنگ کے دوران کئی گھنٹے تک روشنی اور طاقت بند رہتی ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین مشکلات میں پڑے ہیں بلکہ دکاندار اور چھوٹے کاروبار بھی مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی مبہم توانائی پالیسیاں، ناقص گرڈ پلاننگ اور لوڈ مینجمنٹ کے فقدان نے اس بحران کو بڑھا دیا ہے، جس سے عوام کا اعتماد حکومتی نظم و نسق پر کمزور ہوا ہے۔
یہ صورتحال واضح طور پر توانائی کے شعبے میں مؤثر منصوبہ بندی، مناسب انفراسٹرکچر اور انتظامی صلاحیت کی کمی کو بے نقاب کرتی ہے، جس کا براہِ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔
UR