خیبرپختونخوا کے چھ آؤٹ سورس شدہ سرکاری ہسپتالوں میں بجلی کے بار بار ٹوٹنے، فنڈز کی کمی اور عملے کی تنخواہوں میں تاخیر کے باعث مریضوں کی دیکھ بھال شدید متاثر ہوئی ہے۔ نجی تنظیمیں جو یہ ہسپتال چلا رہی ہیں، تنخواہیں نہ ملنے اور بجلی کے مسائل کی وجہ سے ضروری خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس سے مریضوں کو اکثر دیگر اضلاع یا نجی کلینکس جانا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات ناکافی ہیں اور انتظامی مسائل کی وجہ سے عملے کی حاضری محدود ہے۔ کچھ مقامات پر سرکاری اداروں نے اپنے دفاتر قائم کر رکھے، جس سے ڈاکٹروں خصوصاً خواتین اسٹاف کی رہائش اور خدمات متاثر ہوئیں۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ آؤٹ سورسنگ ماڈل کے باوجود انتظامی تعاون، فنڈ مینجمنٹ اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث عوامی صحت کے نظام میں بنیادی ناکامیاں موجود ہیں۔ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج فراہم کرنے میں حکومت کی ناکامی عوامی اعتماد پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے اور صحت کے شعبے میں بدانتظامی کی نشاندہی کرتی ہے۔
UR