مورخہ 16 اگست 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں تعلیم کے شعبے کی صورتحال آج بھی انتہائی نامکمل اور بے ترتیب ہے۔ کئی اسکول غیر فعال رہتے ہیں، بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں اور ہزاروں بچوں تک تعلیم کی رسائی محدود ہے۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ 4,434 سکول قبائلی اضلاع میں ابھی بھی کام نہیں کر رہے، جس میں جنوبی وزیرستان سب سے بدترین صورتحال (1,670 بند اسکول) کے ساتھ شامل ہے۔ شمالی وزیرستان میں بھی 957 اسکول بند ہیں، جس سے بچوں، خصوصی طور پر لڑکیوں، کا تعلیمی سلسلہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی کمی، بدانتظامی اور کرپشن کے الزامات نے نظام تعلیم کی کارکردگی کو اور کمزور کیا ہے۔
یہ سب کچھ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی اصلاحات کے وعدوں کو عملی شکل دینے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وعدوں کے باوجود نہ تو نئے اسکول بروقت بنائے گئے، نہ موجودہ اداروں کی مناسب حالت بہتر ہوئی، اور نہ ہی تعلیم کی رسائی میں خاطر خواہ بہتری آئی۔
UR