ضلع تورغر میں صحت کے شعبے کی سنگین صورتحال سامنے آئی، جہاں مقامی افراد کے مطابق علاقے میں بنیادی ہیلتھ انفراسٹرکچر تقریباً موجود ہی نہیں۔ بنیادی مراکز میں 10 میں سے 9 ڈاکٹرز کی آسامیاں خالی ہیں، جبکہ پورے ضلع میں ایک بھی خاتون ڈاکٹر تعینات نہیں۔
رپورٹ کے مطابق مریض، خصوصاً خواتین، علاج کے لیے دوسرے اضلاع جانے پر مجبور ہیں اور بعض کیسز میں راستے میں ہی اموات بھی ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلع ہیڈکوارٹر ہسپتال کا منصوبہ، جو 2016 میں شروع ہوا تھا، تاحال مکمل نہیں ہو سکا اور اس کی لاگت بھی بڑھ کر 1 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
یہ کیس واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت بنیادی صحت کے نظام، منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں ناکام رہی ہے۔ ایک پورا ضلع آج بھی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے، جو انتظامی بدانتظامی کی واضح مثال ہے۔
UR
▧ 1 media
