پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (BRT) منصوبہ گزشتہ دو سالوں میں 4.67 ارب روپے کا خسارہ برداشت کر چکا ہے۔ یہ خسارہ صرف آپریشنل لاگت کی وجہ سے نہیں، بلکہ غلط منصوبہ بندی اور ناقص عملداری کی وجہ سے آیا ہے۔
حکومت نے منصوبے پر 77 ارب روپے سے زائد خرچ کیے اور قرض لیا، مگر منصوبہ وعدہ کردہ وقت میں مکمل نہ ہوا۔ پارکنگ اور شاپنگ پلازے جو آمدنی پیدا کرنے کے لیے بنائے جانے تھے، وہ آج تک مکمل نہیں ہوئے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، پچھلے مالی سال میں BRT نے 1 ارب روپے سے زائد خسارہ کیا اور موجودہ مالی سال میں یہ خسارہ بڑھ کر 2 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ حکومت اسے چلانے کے لیے سالانہ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے۔
یہ منصوبہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے عوامی سہولت کے بجائے سیاسی دعووں کو ترجیح دی، اور منصوبہ بندی اور مالی کنٹرول میں ناکامی دکھائی۔
UR