خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں ایک چینی کمپنی نے 5 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے بعد معدنیات کے منصوبے پر کام کیا، مگر بعد میں کمپنی کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا، جس سے سرمایہ کاری کا عمل شدید متاثر ہوا۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی نے نہ صرف کان کنی کا کام مکمل کیا بلکہ جرمانہ ادا کرنے کے باوجود اس کا اجازت نامہ ختم کر دیا گیا، جبکہ بعد ازاں یہی منصوبہ کسی دوسری کمپنی کو دے دیا گیا۔ اس تمام عمل میں طویل عدالتی و انتظامی تاخیر بھی سامنے آئی، جس سے معاملہ کئی سال تک الجھا رہا۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے فیصلے پالیسی کے عدم تسلسل، سیاسی مداخلت اور شفافیت کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں، جو نہ صرف جاری منصوبوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ مستقبل کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ صوبے میں سرمایہ کاری کے تحفظ اور مؤثر گورننس کے حوالے سے سنجیدہ مسائل موجود ہیں۔
UR