خیبر پختونخوا کے صحت کے شعبے میں ادویات کی خریداری کے عمل میں بڑی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جہاں چار کمپنیوں نے 1.19 ارب روپے حاصل کر کے ضروری ادویات اور طبی سامان فراہم نہیں کیا۔ ان میں OT درپس کے لیے 4,55,20,000 روپے، گاؤنز کے لیے 3,62,75,000 روپے، گوز رولز کے لیے 5,55,55,000 روپے سمیت دیگر کئی اشیاء شامل تھیں، مگر کسی بھی اشیاء کی فراہمی عمل میں نہیں آئی۔
انکوائری کمیٹی نے فوراً رقوم کی واپسی، کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی سفارش کی، لیکن محکمہ صحت نے تاحال کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا اور ذمہ داری صرف سابق افسران پر ڈال دی گئی ہے۔ یہ معاملہ صحت کے شعبے میں فنڈز کے غلط استعمال اور گورننس کے نظام میں نگرانی کے فقدان کو کھل کر سامنے لاتا ہے، کیونکہ عوامی صحت کی ضروریات پوری کرنے کے بجائے رقوم بے ضابطگیوں میں ضائع ہو رہی ہیں۔
UR