عمران خان نے اپنی حکومت میں ایک سکیم جاری کی جس کے تحت اپنے حامی 620 یا 628 تاجروں میں 3 ارب ڈالر قرضے کے نام پر بانٹ دیے۔ یہ موجودہ ریٹ کے حساب سے 834 ارب روپے بنتے ہیں۔ یہ بغیر سود یا معمولی شرح سود کے قرضے تھے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ساری رقم غائب ہوگئی۔ سٹیٹ بینک کے مطابق ان میں سے صرف 19 ارب ہی واپس ملے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس رقم کا بڑا حصہ پاکستان سے باہر منتقل ہوا اور اس میں عمران خان اور اسکی فیملی کو حصہ دیا گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی سکینڈل کہلاتا ہے۔ یہ 3 ارب ڈالر تاجروں میں اس وقت بانٹے گئے جب 1 ارب ڈالر لینے کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ایڑیاں رگڑی جارہی تھیں۔
UR
No comments yet. Start the discussion.