ملک ریاض، بحریہ ٹاؤن کے مالک، پر سب سے بڑا کرپشن سکینڈل بحریہ ٹاؤن کراچی (BTK) کا ہے۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے سوو موٹو نوٹس لیتے ہوئے یہ کیس اٹھایا کہ بحریہ ٹاؤن نے کراچی کے ملیر ضلع (گرین بیلٹ) میں 23,300 ایکڑ سرکاری اراضی غیر قانونی طور پر ہتھیائی۔ سندھ بورڈ آف ریونیو اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ملی بھگت سے غریب کسانوں اور سرکاری زمین کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے الاٹ کیا گیا۔ عدالت نے اسے “void ab initio” قرار دیا اور کہا کہ یہ بدعنوانی اور اراضی لوٹ مار کا واضح کیس ہے۔بحریہ ٹاؤن نے ہزاروں ایکڑ پر شاندار ہاؤسنگ سکیم بنائی تھی، جہاں اربوں روپے کا سرمایہ کاروں کا پیسہ پھنسا ہوا تھا۔ 2019 میں سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی پیشکش قبول کرتے ہوئے 460 ارب روپے جرمانہ/تصفیہ قبول کیا۔ اس کے بدلے کمپنی کو 16,896 ایکڑ اراضی رکھنے کی اجازت دی گئی، مزید توسیع پر پابندی لگائی گئی اور NAB کے ریفرنسز روک دیے گئے۔ یہ جرمانہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا عدالتی تصفیہ تھا۔ یہ کم و بیش 700 ارب روپے کا کرپشن سکینڈل تھا۔