سوئس بینک کیسز / زرداری، بھٹو اسکینڈلز (420 ارب روپے)
یہ بنیادی طور پر آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف سوئس بینک اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ اور غیر ملکی کمپنیوں سے کمیشن/کک بیکس لینے کے الزامات پر مبنی ہے۔ یہ الزامات ان کے دوسرے دورِ حکومت (1993-1996) سے تعلق...
اس میں ثابت شدہ تقریباً 11.9 سے 13.5 ملین ڈالر (تقریباً 12 کروڑ ڈالر) تھی جب کہ تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس میں 100 ملین ڈالر کی کرپشن کی گئی تھی۔
یہ رقم دو سوئس کمپنیوں (Société Générale de Surveillance - SGS اور اس کی سابقہ ذیلی کمپنی Cotecna) نے پاکستان میں پری شپمنٹ انسپکشن (درآمدات کی چیکنگ) کے معاہدوں کے بدلے میں کمیشن کے طور پر ادا کی۔ Bomer Finance Inc. (زرداری سے منسلک آف شور کمپنی) کو تقریباً 8.19 ملین ڈالر اور Nassam Overseas Inc. (بے نظیر کے بہنوئی ناصر حسین سے منسلک) کو تقریباً 3.8 ملین ڈالر کو ادا کی گئی جب کہ سوئس وکیل Jens Schlegelmilch کو تقریباً 1.53 ملین ڈالر دی گئی۔ اس پر سوئس حکام نے تقریباً 60 ملین ڈالر کے مجموعی اثاثے منجمد کیے تھے۔
کچھ رپورٹس اور نیب دستاویزات میں ان کے مجموعی غیر قانونی اثاثوں کا اندازہ 1.5 ارب ڈالر تک لگایا گیا (بشمول زمین، بیرون ملک پراپرٹیز اور دیگر معاہدے)۔
جنیوا کے تحقیقاتی مجسٹریٹ نے بے نظیر، زرداری اور ان کے وکیل کو منی لانڈرنگ کا مجرم قرار دیا۔ انکو قید اور جرمانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو 12 ملین ڈالر رقم واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
2007 میں مشرف کے نیشنل ریکنسیلی ایشن آرڈیننس (NRO) کے تحت بہت سے کرپشن کیسز معاف ہوئے۔ 2008 میں پاکستانی حکومت (زرداری کے صدر بننے سے پہلے) نے سوئس کیسز سے دستبردار ہو گئی۔ سوئس حکام نے کیس بند کر دیا اور 60 ملین ڈالر کے اکاؤنٹس آزاد کر دیے۔
Source: یو پی آئی آرکائیو
No comments yet. Start the discussion.