عمران خان کی مبینہ بیماری پر ڈاکٹروں کا ایک پینل بنایا گیا۔ جنہوں نے مکمل چیک آپ کے بعد کہا کہ عمران خان کو صرف ڈپریشن ہے اور کوئی عارضہ نہیں۔
لیکن سپریم کورٹ کے جج شاہد وحید صاحب نے سوال کیا کہ عمران خان کون سے اسپتال جانا چاہتے ہیں۔ انکو شفا اسپتال کا بتایا گیا تو جج موصوف نے یہ بھی کہا کہ وہ وہاں 16 ستمبر تک زیر علاج رہیں۔
کسی بھی مریض کے اسپتال منتقلی کا فیصلہ ڈاکٹرز کرتے ہیں اور کتنے عرصہ اس نے اسپتال میں ایڈمٹ رہنا ہے یہ فیصلہ بھی ڈاکٹرز کرتے ہیں۔ لیکن یہاں جج موصوف نے ڈاکٹر بن کر یہ فیصلہ سنایا۔
اس کے علاوہ اس فیصلے کے لیے پاکستان پریزن رولز کے رول نمبر 197، رول نمبر 397، دی پریزن ایکٹ 1894 کی دفعہ 37 اور 39 کی اور آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی بھی واضح خلاف ورزی کی گئی۔ ان رولز اور دفعات کے تحت قیدی کو کسی بھی طرح کی بیماری کی صورت میں متعلقہ سپرنٹنڈنٹ جیل کی سفارش پر آئی جی جیل خانہ جات کی منظوری سے متعلقہ مجسٹریٹ کے حکم سے ہی جیل سے باہر کے کسی بھی سرکاری ہسپتال سے علاج معالجہ کرایا جا سکتا ہے۔ ان رولز اور دفعات میں قیدی کی پسند کے پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
سپریم کورٹ ایسا نہیں کر سکتی کہ آئین کے آرٹیکل 9 کے نفاذ کی آڑ میں آئین کے آرٹیکل 4 کو اور آئین کے آرٹیکل 25 کو متروک کر دے۔
UR
No comments yet. Start the discussion.