اکتوبر 2023 میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے فیصلہ کیا کہ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سویلین شہریوں (خاص طور پر مئی 2023 کے واقعات میں ملوث افراد) کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل غیر آئینی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق) کی خلاف ورزی ہے، اور تمام ایسے کیسز سول عدالتوں میں منتقل کیے جائیں۔
لیکن قانونی ماہرین اور بعد کے بینچ نے کہا کہ اصل فیصلے میں آرمی ایکٹ کی شقوں کی تشریح میں حد سے تجاوز کیا گیا، قومی سلامتی کے حساس معاملات میں عدالت نے پالیسی بنانے جیسا کردار ادا کیا جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھا۔ فوجی عدالتوں کو سویلینز پر ٹرائل کی اجازت دینے والی شقیں آئین کے ساتھ مطابقت رکھتی تھیں (خاص طور پر دہشت گردی اور فوجی تنصیبات پر حملوں کے کیسز میں)۔
مئی 2025 میں نظرثانی/بڑے بینچ نے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 7 مئی 2025 کو (5-2 کی اکثریت سے) اکتوبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل بعض مخصوص حالات (جیسے مئی 9 کے واقعات) میں جائز ہے، اور قومی سلامتی کے مفاد میں یہ ضروری ہے۔