یہ الزام افغان طالبان، پی ٹی ائی اور انڈین اکاؤنٹس نے لگایا جب پاکستان نے طالبان کی ایک ڈرون فیسلٹی پر حملہ کیا۔ تاہم اس حوالے سے سید مزمل شاہ نے ایک افغان میڈیا کی رپورٹ شئیر کی جس کے مطابق 'منشیات بحالی مرکز' کے ساتھ ہی وہ ڈرون بنانے کی فیکٹری تھی جس کا پاکستان بار بار کہہ رہا تھا اور جسکی تصاویر بھی جاری کیں کہ ہم نے ڈرون فیکٹری کو تباہ کیا ہے۔
امید سنٹر (منشیاب بحالی مرکز) کے ایک طرف ڈرون بنانے کی فیکٹری، دوسری طرف ڈرون اڑانے کا میدان، تیسری طرف طالبان کا کیمپ کنٹینر، سپیشل یونٹ سائٹ اور پولیس ہیڈ کواٹر بھی موجود ہے۔ اس لیے وہاں سے پاکستانی لڑاکا طیاروں پر فائرنگ بھی ہوئی جس کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
مبصرین کے مطابق طالبان نے ملٹری انسٹالیشنز کے بیچ میں ایک منشیات بحالی مرکز بنا دیا تاکہ حملہ ہو تو اس پر پروپیگنڈا کر سکیں۔ جوں ہی ڈرون سائٹ تباہ ہوئی سارے نشئی بھاگ گئے جس کے بعد وہ آگ اس منشیات بحالی سنٹر تک پہنچی۔ اسی لیے طالبان کے پاس سینکڑوں لاشیں موجود نہیں ہیں دیکھانے کو اور اے آئی تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں۔