یہ دعویٰ کہ “پاک فوج 80٪ بجٹ کھا جاتی ہے” اعدادوشمار کی روشنی میں درست نہیں۔ پاکستان کے وفاقی بجٹ اور جی ڈی پی کے سرکاری ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ دفاعی اخراجات اس کے قریب بھی نہیں ہیں۔ مثلاً مالی سال 2024–25 میں پاکستان کا کل وفاقی بجٹ تقریباً 18.9 ٹریلین روپے تھا، جبکہ دفاعی بجٹ تقریباً 2.1 ٹریلین روپے رکھا گیا۔ یوں دفاعی اخراجات کل وفاقی بجٹ کا لگ بھگ 11٪ بنتے ہیں، نہ کہ 80٪۔
اگر جی ڈی پی کو دیکھیں تو پاکستان کا مجموعی جی ڈی پی تقریباً 410–420 ارب ڈالر (تقریباً 115–120 ٹریلین روپے) کے قریب ہے، جبکہ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا تقریباً 1.7–2٪ بنتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی یہ شرح غیر معمولی نہیں؛ کئی ممالک اپنے جی ڈی پی کا اس سے زیادہ حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں۔
اصل میں پاکستان کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (Debt servicing) میں جاتا ہے، جو بعض برسوں میں 40–50٪ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد ترقیاتی، سبسڈی اور سول حکومتی اخراجات آتے ہیں۔ اس تناظر میں “80٪ بجٹ فوج لے جاتی ہے” کا بیانیہ اعدادوشمار سے ثابت نہیں ہوتا اور حقائق کے منافی ہے۔