عمران خان پر 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس ہے۔ انہوں نے بطور وزیراعظم برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) سے آنے والی خطیر رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے ملک ریاض کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا اور مذکورہ رقم اس کے ایک اور کیس کے جرمانے میں ایڈجسٹ کردی۔ یہ رقم دراصل پاکستان کے ضبط شدہ اثاثوں کے بدلے میں ریاست کو ملنی تھی، مگر کابینہ سے مبینہ طور پر حقائق چھپا کر معاہدے کی منظوری لی گئی۔ اس کے نتیجے میں ریاست کو اربوں روپے کا نقصان ہوا جبکہ ایک نجی ہاؤسنگ منصوبے کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔ اس میں عمران خان اور اسکی بیوی نے 8 ارب روپے کی مالیت کی زمین، نقد رقم اور زیورات رشوت کی شکل میں لیے۔ یہ کیس عمران خان کے اس بیانیے کے برعکس ہے جس میں وہ خود کو کرپشن کے خلاف علمبردار قرار دیتے رہے۔