ایک بھارتی یوٹیوبر نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ کنڑ کے سرحدی علاقے کے دورے کے دوران ٹی ٹی پی (TTP) سے منسلک افراد نے اس سے رابطہ کیا۔ کالعدم تنظیم کے انٹیلی جنس یونٹ کے ایک اہلکار نے اس کا نمبر لیا اور اسی رات فون پر رابطہ کیا۔ تاہم واقعے کے فوراً بعد افغان طالبان حکام نے مداخلت کرتے ہوئے یوٹیوبر کو اس علاقے سے دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
افغان طالبان ٹی ٹی پی کے وجود سے انکاری ہیں جبکہ یہ انڈین یوٹیوبر بتا رہا کہ کنٹر میں ٹی ٹی پی والے سرگرم ہیں انہوں نے اس سے فون نمبر بھی لیا۔ اس واقعے نے افغان طالبان اور کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطوں اور ہم آہنگی مزید واضح کر دیا ہے۔
ایک ہندوستانی یوٹیوبر افغانستان کے اندر جاکر یہ پول کھول رہا ہے کہ وہاں طالبان کی ناک کے نیچے ٹی ٹی پی کتنی فعال ہے، تو پھر کابل سے یہ جھوٹا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوتی؟
UR
▶ Video
No comments yet. Start the discussion.