پشاور سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں بے روزگاری کا بحران بہت سنگین سطح پر ہے، جہاں تقریباً 8 لاکھ 66 ہزار امیدوار نے صرف 16,454 سرکاری ٹیچر پوسٹس کے لیے درخواستیں جمع کروائیں، جس سے ہر سیٹ کے لیے اوسطاً 52 سے زیادہ امیدواروں کا مقابلہ ہوا۔ یہ تعداد یہ بتاتی ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے بے روزگار ہیں۔
ماہرین کے مطابق تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع، نجی شعبے میں کم سرمایہ کاری، اور طویل انتظار کی پوزیشنز جیسے انٹرویوز نے معاشی مواقع مزید محدود کر دیے ہیں، جس سے نوجوان ذہنی دباؤ، مایوسی اور غیر یقینی مستقبل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات حکومتی معاشی اور روزگار پالیسیوں میں واضح کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں، جہاں نوجوانوں کی صلاحیتیں معاشی ترقی میں شامل نہیں ہو پا رہی ہیں۔
یہ صورتحال خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں کمی، صنعتی ترقی کا فقدان، اور مستحکم معاشی پالیسی کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتی ہے، جو حکومت کی کمزور اسٹریٹیجی کا واضح ثبوت ہے۔