خیبر پختونخوا میں 155 غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کا انکشاف ہوا، جہاں شہریوں سے اربوں روپے وصول کیے گئے مگر انہیں نہ قانونی تحفظ ملا اور نہ بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ایسے منصوبے بغیر این او سی اور منظوری کے چلتے رہے، جس سے عام شہری دھوکے کا شکار ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق صرف پشاور میں ایک فرانزک جائزے کے دوران 295 ہاؤسنگ اسکیمیں غیر قانونی قرار دی گئیں، جہاں ہر اسکیم میں لاکھوں سے کروڑوں روپے تک کی شکایات سامنے آئیں، جو اس مسئلے کے بڑے پیمانے کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں غیر قانونی اسکیموں کا برسوں تک چلتے رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نہ مؤثر نگرانی کی گئی اور نہ ہی بروقت کارروائی۔ اس صورتحال نے شہریوں کو مالی نقصان پہنچایا اور رہائشی نظام کو غیر یقینی بنا دیا۔
یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ ریگولیٹری ادارے اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث فراڈ، غیر قانونی تعمیرات اور عوامی استحصال کو کھلی چھوٹ ملی — جو صوبائی گورننس کی واضح ناکامی ہے۔