خیبر پختونخوا میں پیپر لیس ای‑گورننس منصوبہ شدید ناکامی کا شکار رہا، جس کی وجہ سے اربوں روپے کے سرکاری فنڈز ضائع ہوئے۔ منصوبے کے لیے 5 کروڑ روپے سافٹ ویئر اور 114 لاکھ روپے مشاورتی فیس میں خرچ ہوئے، مگر سسٹم بگ اور خامیوں کی وجہ سے استعمال کے قابل نہ رہا۔
رپورٹ کے مطابق 171 متوقع ماڈیولز میں سے صرف سات مکمل ہوئے اور وہ بھی چند دنوں کے بعد غیر فعال ہو گئے، جبکہ 34 محکموں کو ڈیجیٹل کرنا اور 4,000 ملازمین کی تربیت کے باوجود عمل اب بھی پرانی کاغذی طریقہ کار پر منحصر ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف سرکاری فنڈز کے ضیاع کی علامت ہے بلکہ گورننس میں منصوبہ بندی اور عملی نفاذ کی واضح کمزوری بھی ظاہر کرتی ہے۔