Khyber Pakhtunkhwa میں سرکاری رہائش گاہوں اور گاڑیوں پر غیر متعلقہ افراد کے قبضوں کی سنگین صورتحال سامنے آئی ہے جس نے سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور نگرانی کے فقدان کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ متعدد سرکاری گھر اور کئی سرکاری گاڑیاں کئی ماہ تک غیر اہل افراد کے قبضے میں رہیں، جن میں ریٹائرڈ افسران اور تبادلے والے ملازمین بھی شامل تھے۔ نتیجتاً سرکاری اثاثے عوامی خدمات کے بجائے افراد کے ذاتی استعمال کا نشانہ بنے، جس سے خزانے کو براہِ راست نقصان پہنچا۔
آڈٹ رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وار لیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ میں کم از کم 80 سرکاری گاڑیاں گم ہیں، جو مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے خریدی گئی تھیں مگر آڈٹ میں ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا، اور نہ ہی وہ فیلڈ میں پائی گئیں، جس سے انتظامی کنٹرول کی کمزوری کا ثبوت ملتا ہے۔