پیپلز پارٹی کا ایک مشہور کرپشن سکینڈل رینٹل پاور پلانٹس (RPPs) سکینڈل ہے۔ اس سکینڈل میں الزام ہے کہ بجلی کے شدید بحران کے وقت حکومت نے فوری بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 سے زائد رینٹل پاور کمپنیوں کو بغیر مناسب ٹینڈرنگ اور شفافیت کے معاہدے دیے۔ ان کمپنیوں کو اربوں روپے کی موبلائزیشن ایڈوانس دی گئی، لیکن زیادہ تر پلانٹس وقت پر نصب نہیں ہوئے یا ناقص معیار کے تھے۔ پاور ڈویژن کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے ڈاؤن پیمنٹ 7 فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد کرنے کی منظوری دی، جس سے قومی خزانے کو تقریباً 22 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ نیب نے اس کیس میں راجہ پرویز اشرف سمیت کئی افسران پر اختیارات کے غلط استعمال، کرپشن اور غیر قانونی فائدے کا الزام لگایا۔ سپریم کورٹ نے بھی اسے سنگین بدعنوانی قرار دیا اور 2013 میں راجہ اشرف کی گرفتاری کا حکم دیا۔ کیس میں ترک کمپنی کارکی (Karkey) سمیت دیگر کمپنیوں کو بھی ملوث بتایا گیا۔ عدالتوں میں کئی سال کیس چلنے کے بعد 2025 میں راجہ پرویز اشرف سمیت ملزمان کو بری کر دیا گیا۔