ملالہ یوسفزئی اور ان کے والد ضیاالدین یوسفزئی کے حوالے سے رپورٹس ہیں کہ انکو باقاعدہ بی بی سی نے لانچ کیا تھا۔ ملالہ ایک عام طالبہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت عالمی میڈیا کے ذریعے سامنے لائی گئی شخصیت ہے۔ اس منصوبے میں چند غیر ملکی این جی اوز، بی بی سی اور وائس آف امریکہ نے سوات کی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ ملالہ جو ڈائریاں لکھا کرتی تھی وہ صرف کاپی کرتی تھی جو تحریک انکو موصول ہوتی تھی اور وہی واپس بھیجتی تھی۔
سوات میں دہشت گردی، مدارس کے پھیلاؤ، سرکاری سکولوں کی تباہی اور تعلیمی نظام کی خرابی کے پیچھے بیرونی طاقتیں (خصوصاً امریکہ اور اس سے منسلک ادارے) کارفرما تھے، جبکہ ضیاالدین یوسفزئی کو ان قوتوں کے ساتھ تعاون کرنے والا شخص تھا۔ ملالہ پر حملہ بھی اسی عالمی میڈیا مہم کا حصہ تھا جس کا مقصد پاکستان، اس کی فوج اور اسلامی تعلیمات کو بدنام کرنا تھا۔
سوات میں سرکاری تعلیمی نظام کو کمزور کر کے پرائیویٹ سکولوں اور این جی اوز کو مضبوط کیا گیا اور ملالہ کو زبردستی ایک “قومی ہیرو” بنا کر پیش کیا گیا جو اصلاً مغرب کی آلہ کار ثابت ہوئی۔