پہلی طالبان حکومت جو 1996 سے 2001 تک افغانستان میں قائم رہی، اس دور میں خواتین کی تعلیم پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ لڑکیوں کے اسکول بند کر دیے گئے اور کئی جگہوں پر تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ خواتین اساتذہ کو دھمکیاں دی گئیں اور بعض واقعات میں انہیں قتل بھی کیا گیا، جس کے باعث خواتین کی تعلیم تقریباً مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ صرف کابل کی میڈیکل فیکلٹی کو محدود طور پر کھلا رکھا گیا کیونکہ اس وقت خواتین مریضوں کا علاج صرف خواتین ڈاکٹر ہی کرسکتی تھیں، اس لیے طبی تعلیم کو جزوی اجازت دی گئی۔
اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ابتدا میں یہ تاثر دیا گیا کہ اس بار پالیسی پہلے سے مختلف ہوگی، لیکن جلد ہی لڑکیوں کی تعلیم پر دوبارہ پابندیاں لگا دی گئیں۔ حالانکہ طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی۔ اب دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم بدستور بند ہے۔ اس کے علاوہ خواتین پر سفر، تفریحی مقامات اور عوامی سرگرمیوں میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔