پی ٹی آئی نے عمران خان کی گرفتاری پر 9 مئی 2023ء کو ملک کے 36 شہروں میں 200 مقامات پر مختلف فوجی اور سرکاری تنصیبات اور املاک پر حملے کیے۔
ان پرتشدد مظاہرین نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس)، راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے داخلی دروازے، اور دیگر شہروں میں فوج سے متعلق عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض مقامات پر عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی گئی، سامان جلایا گیا، اور حساس علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کو غیر معمولی قرار دیا گیا۔
حکومت نے ان واقعات کو قومی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان پر انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔
9 مئی کے واقعات پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم ترین تنازعات میں شمار ہوتے ہیں، جن کے بعد بڑے پیمانے پر تحقیقات، مقدمات، اور سیاسی بحث جاری رہی