13 مئی 2025 کو شائع رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں نصاب کی کتب کی شدید کمی نے طلبہ اور اساتذہ کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ نئے تعلیمی سال کا آغاز اپریل کے آغاز میں ہوا، مگر اب تک بہت سے اسکولوں میں طلبہ ضروری درسی کتابیں حاصل نہیں کر سکے، خاص طور پر نواں اور دسویں جماعت کے طلبہ کے پاس مطلوبہ کتابیں نہیں ہیں۔ روایتی طور پر ہر سال صوبائی حکومت تعلیمی سال شروع ہونے پر مفت کتابیں فراہم کرتی رہی ہے، مگر گزشتہ دو سال سے سرکاری اخراجات میں اضافہ کے باعث حکومت نے صرف نصف کتابیں فراہم کرنے اور باقی کے لیے پرانی کتابیں دوبارہ استعمال کروانے کا طریقہ اپنایا، جس سے صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ اساتذہ نے بتایا کہ اگر کلاس میں 40 طلبہ ہیں تو فزکس کی صرف 5 اور بایولوجی کی 15 نئی کتابیں دی گئی ہیں، جبکہ دیگر مضامین میں بھی ایسی ہی کمی دیکھی جا رہی ہے۔