2024 میں انکشاف ہوا کہ خیبر پختونخوا کے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ سے جاری ہونے والے مبینہ جعلی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس بیرونِ ملک پاکستانیوں نے ہانگ کانگ اور آسٹریلیا میں مقامی لائسنس حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب National Accountability Bureau (NAB) اور دفترِ خارجہ نے 89 ایسے کیسز کی نشاندہی کی جن میں پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس اور تصدیقی خطوط جعلی پائے گئے۔
جولائی 2024 میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس بات کی تصدیق کی کہ بعض لائسنس اور ویریفکیشن لیٹرز جعلی طور پر جاری کیے گئے۔ اگست 2024 میں Federal Investigation Agency (FIA) کو ہائی لیول انکوائری کے لیے شامل کیا گیا تاکہ اس معاملے میں ملوث افراد، طریقہ کار اور ممکنہ نیٹ ورک کا تعین کیا جا سکے۔
اس اسکینڈل نے نہ صرف صوبائی ویریفکیشن سسٹم کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کیا۔