آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں تقریباً Rs7,000,000,000 (7 ارب روپے) سے زائد مالی بے ضابطگیاں اور قواعد کی خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے مختلف پروگراموں اور اسکیموں میں دستیاب ریکارڈ، اخراجات کی منظوری، ذخیرہ اندوزی اور لاگت کا تعین ایسے طریقے سے کیے گئے جن سے مالی نظم و نسق، نگرانی اور شفافیت حکومتی معیارات پر پورا نہیں اتر رہا۔
آڈٹ نے مختلف اخراجات میں قواعد کے خلاف فنڈز کا اجرا، ناقص انوینٹری مینجمنٹ، سپلائرز کے ساتھ معاہدوں میں شفافیت کی کمی، اور موزوں ریکارڈ کی عدم دستیابی جیسے معاملات کی نشاندہی کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان بے ضابطگیوں نے عوامی وسائل کے مؤثر استعمال، خوراک کی قیمتوں پر کنٹرول اور عوام تک مناسب فراہمی کے حکومتی مقاصد کو متاثر کیا ہے۔ آڈٹ حکام نے ان مشاہدات کی روشنی میں شفاف آڈٹ سسٹم، موثر نگرانی، اور قواعد کی پابندی کی سفارش کی، جبکہ متعلقہ محکمے کو درستگی کے اقدامات کرنے کے لیے ہدایات بھی جاری کی گئیں۔