25 اگست 2025 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق National Accountability Bureau (NAB) نے خیبر پختونخوا میں گولڈ بلاکس کی نیلامی کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناقص نیلامی پالیسی، کم ریزرو قیمت کے تعین اور غیر شفاف فیصلوں کے باعث قومی خزانے کو کھربوں روپے کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہوا۔
رپورٹ کے مطابق کان کنی سے متعلق معاہدوں میں ایسے نکات شامل تھے جن سے نجی ٹھیکیداروں کو غیر معمولی فائدہ پہنچا جبکہ صوبائی حکومت کو محدود مالی حصہ ملا۔ جیولوجیکل میپنگ کا منصوبہ مکمل کیے بغیر بعض بلاکس کی منظوری دی گئی، اور کچھ کیسز میں قانونی اور انتظامی طریقہ کار کو نظر انداز کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔
مزید یہ کہ عدالتی احکامات کے باوجود بعض علاقوں میں کان کنی کی سرگرمیاں جاری رہنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جس نے نگرانی اور وسائل کے انتظام کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے ہیں۔ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری رکھنے اور ذمہ داران کے تعین کا عندیہ دیا گیا ہے۔