24 فروری 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے Sehat Sahulat Program میں تقریباً Rs. 50 million (5 کروڑ روپے) کی نئی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ پشاور کے ایک بڑے ٹیچنگ ہسپتال کے اندرونی آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ بلنگ سسٹم میں ردوبدل، سرجریوں کی ڈبل انٹری، اور ادویات کی مشکوک فروخت کے ذریعے ناجائز مالی فائدہ اٹھایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بعض کیسز میں ایک ہی سرجری کو صبح Sehat Card کے تحت جبکہ شام میں Institutional-Based Practice (IBP) کے تحت ظاہر کیا گیا۔ مزید یہ کہ ڈیجیٹل ریکارڈ میں تبدیلی کر کے ریونیو شیئرنگ میں اضافہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی، جسے آڈٹ کے دوران پکڑا گیا۔ حکام نے معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ یہ انکشافات صوبے کے صحت کے سب سے بڑے فلاحی پروگرام میں نگرانی اور شفافیت کے نظام پر نئے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔