خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے دوران 2024 تک کے 18 اضلاع کے ریکارڈ میں مجموعی طور پر 8 ارب روپے سے زائد خوردبرد اور مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ آڈٹ دستاویزات کے مطابق مختلف علاقوں میں ٹھیکیداروں کو 5 کروڑ 53 لاکھ روپے کی بوگس یا جعلی ادائیگیاں کی گئیں، جبکہ سیکیورٹی ہیڈ کے تحت 10 کروڑ 82 لاکھ روپے کی مشکوک ادائیگیاں بھی ریکارڈ ہوئیں۔ اس کے علاوہ 53 کروڑ 54 لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز کو غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے کے شواہد ملے، جس سے سوالات نے مالی نگرانی اور احتساب کے نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا۔
آڈٹ نے یہ بھی بتایا کہ اکاؤنٹس کے ڈیجیٹل اور دستی ریکارڈ میں 6 ارب 30 کروڑ روپے کا واضح فرق موجود تھا، جو مالی شفافیت اور ریکارڈ کی درستگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان بے ضابطگیوں میں تقریباً 25 کروڑ 96 لاکھ روپے کی مبینہ پنشن ادائیگیاں بھی شامل تھیں، اور کچھ اضلاع جیسے پشاور اور باجوڑ میں 1 ارب 23 کروڑ روپے مشکوک مالیاتی ریکارڈ کے طور پر سامنے آئے۔