عمران خان نے 2017 میں ایک ٹی وی پروگرام اور ریلی میں یہ الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے انہیں ایک مشترکہ دوست کے ذریعے 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی تاکہ وہ نواز شریف کے خلاف پانامہ پیپرز کیس سے پیچھے ہٹ جائیں۔ شہباز شریف نے الزام کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا مقدمہ (defamation suit) دائر کر دیا۔ دوران ٹرائل شہباز شریف نے گواہی دی اور کراس ایگزامینیشن کا سامنا بھی کیا۔
لیکن اس دوران عمران خان نے یوٹرن لے کر کہا کہ میں نے یہ بات عوامی مفاد میں بیان کی تھی اور یہ ایک دوست سے سنی تھی اور میں نے کھل کر شہباز شریف کا نام نہیں لیا تھا۔ 2022 میں ٹرائل کورٹ نے عمران خان کے دفاع کا حق ختم کر دیا کیونکہ وہ سوالات کے جوابات جمع نہ کرانے میں ناکام رہے۔ یہ کیس ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے اور اس پر سپریم کورٹ نے کاروائی روک دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ عمران خان نے جھوٹ بولا تھا جو اس کے گلے پڑ گیا ہے۔