جون 2025 میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی 2024-25 آڈٹ رپورٹ (2023-24 مالی سال) میں خیبر پختونخوا حکومت کے 8 کیسز میں Rs147 ارب کے غیر شفاف کنٹریکٹس کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے علاوہ تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں Rs2.8 ارب کی اوور پیمنٹس (36 کیسز)، fictitious اخراجات، fraudulent ادائیگیاں، misappropriation، اور irregular procurement شامل تھے۔ آڈٹ نے انتظامی کوتاہیوں (Rs9 ارب، 7 کیسز) اور خدمات کی عدم فراہمی کی بھی نشاندہی کی۔ AGP نے تحقیقات، ریکوری، اور disciplinary کارروائی کی سفارش کی۔