سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد انتظامی ڈھانچے اور ترقیاتی ڈھانچے کی تشکیل ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص ترقیاتی بجٹ کا مکمل استعمال نہ ہو سکا۔ بعض مالی سالوں میں مختص فنڈز کا تقریباً 20 سے 30 فیصد حصہ خرچ ہی نہیں ہو پایا۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اسٹاف کی کمی نمایاں رہی، جبکہ بنیادی انفراسٹرکچر جیسے سڑکوں اور پانی کی فراہمی کے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکے۔ مقامی نمائندوں نے بارہا شکایت کی کہ بیوروکریسی کی تعیناتی میں تاخیر اور بلدیاتی نظام کی عدم فعالیت نے سروس ڈیلیوری کو متاثر کیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ تاریخی پسماندگی، سکیورٹی مسائل اور قانونی منتقلی کے مراحل فوری نتائج میں رکاوٹ ہیں، تاہم زمینی حقائق نے گورننس کے خلا کو واضح کیا۔