13 ستمبر 2025 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا کہ پشاور میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری ایک ترقیاتی منصوبے میں تقریباً 10 کروڑ 60 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم جعلی چیکس اور مشکوک ادائیگیوں کے ذریعے سرکاری اکاؤنٹس سے نکلوائی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں مالیاتی ریکارڈ میں تضادات، منظوری کے عمل میں خامیاں اور نگرانی کے نظام میں کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی۔ حکام نے متعلقہ بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے انکوائری شروع کرنے کی تصدیق کی۔ چونکہ یہ منصوبہ بین الاقوامی مالی معاونت سے چل رہا تھا، اس لیے اس واقعے نے نہ صرف صوبائی مالی نظم و نسق بلکہ بیرونی فنڈز کے استعمال میں شفافیت کے معیار پر بھی سوالات کھڑے کیے۔ یہ کیس صوبائی سطح پر نگرانی اور احتساب کے نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور اسے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دور میں بدانتظامی اور مالی بے ضابطگی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔