بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے دعوی کیا کہ ولید ولد عبدالمجید کو 3 جنوری 2026ء کو سیکیورٹی فورسز نے کراچی لیاری سے اغوا کر لیا ہے۔ اسکو مسنگ پرسن قرار دے دیا گیا۔
پھر اسی ولید کی پہاڑوں میں کھانا پکاتے تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔ ان پوسٹس میں بتایا گیا کہ ولید ولد عبدالمجید بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کا فدائی (خودکش حملہ آور) ہے، جو کئی سالوں سے بی ایل اے کا سرگرم رکن ہے۔ اس نے نہ صرف دہشتگردی کی تربیت حاصل کر رکھی ہے بلکہ کئی خفیہ مشنوں میں بھی شامل رہا ہے۔
اس انکشاف کے بعد اس دعوے کو تقویت ملی کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) دراصل بی ایل اے کے لیے میڈیا فرنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کام ہے بی ایل اے کے دہشتگردوں کو "معصوم شہری" بنا کر پیش کرنا، ریاستی اداروں کو بدنام کرنا، اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا۔