اکبر المعروف طاہر بلوچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے 7 جون 2025 کی شام 8 بجے غائب ہونے کے بعد مسنگ پرسن قرار دیا اور اغواء کا الزام (ایف سی) پر لگایا حالانکہ 8 فروری 2026 کی صبح پاکستانی سیکورٹی فورسز نے زمران میں قائم بی ایل ایف کے کیمپ پر ڈرون حملہ کیا تو اس کے نتیجہ میں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملہ کے بعد بی ایل ایف نے ایک بیان جاری کیا اور چاروں ہلاک دہشتگردوں میں سے اکبر المعروف طاہر بلوچ کو بھی اپنی مسلح تنظیم کا رکن تسلیم کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ اکبر المعروف طاہر بلوچ نے 13 مارچ 2025 کو بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کی تھی۔