شہزاد بلوچ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے مسنگ پرسن ظاہر کر کے مبینہ طور پر 4 جون 2022 کو قلات سے اغواء ہونے کا دعوٰی کیا تھا اور رہائی کیلئے بلوچ یکجہتی کمیٹی و دیگر تنظیموں نے احتجاج بھی ریکارڈ کروائے۔ حقیقت میں شہزاد بلوچ مسلح دہشت گرد تنظیم بی ایل سے تعلق رکھتا تھا اور یہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ 12 جولائی 2022 کو لیفٹنٹ کرنل بیگ مرزا اور اس کے کزن کو فیملی کے سامنے جب وہ زیارت سے واپس کوئٹہ سفر کررہے تھے اغواء کیا اور دونوں کو شہید کردیا۔ لیفٹنٹ کرنل بیگ مرزا اور اس کے کزن کی بازیابی کیلئے سیکورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر زیارت میں کاروائی عمل میں لائی تھی جس کے نتیجہ میں تقریبا 9/10 دہشتگرد مارے گئے تھے اسی دوران لیفٹنٹ کرنل بیگ مرزا نے جام شہادت نوش کیا۔ بازیابی کیلئے کیے گئے آپریشن کے دوران شہزاد بلوچ ہلاک ہوا۔ اس کی ہلاکت پر بی ایل اے نے فخر کیا اور اس کی قبر پر بی ایل اے کا جھنڈا بھی لہرایا۔