فقیر ایپی کو پاکستان میں افغانستان کی پہلی پراکسی کہا جاتا ہے۔ 1947ء میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد فقیر ایپی نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ افغانستان نے فوراً فقیر ایپی کی سرپرستی شروع کر دی اور 1948ء میں شمالی وزیرستان سے شروع ہونے والی یہ بغاوت افغانستان کی کھلی سرپرستی میں شروع ہوگئی۔ کابل سے فقیر ایپی کو مسلسل مالی امداد، اسلحہ، پناہ گاہیں اور سیاسی حمایت فراہم کی جاتی رہی۔ مئی 1949ء میں گورویک کے جرگے میں فقیر ایپی کو ’’پختونستان‘‘ کا صدر منتخب کیا گیا، جسے افغانستان نے عملاً تسلیم بھی کیا اور اس کی نام نہاد ریاست کے انتظامی امور میں براہِ راست مدد دی۔
افغانستان نے فقیر ایپی کی تحریک کو پاکستان کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں وزیرستان سے کوہاٹ تک پاکستان کے حامی مشران اور قبائلی عمائدین کو نشانہ بنایا گیا۔ بالآخر افغان وعدہ خلافیوں اور مسلسل دھوکے کے باعث یہ تحریک کمزور پڑ گئی، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان کے خلاف پہلی مسلح پراکسی جنگ افغانستان کی سرپرستی میں فقیر ایپی کے ذریعے ہی لڑی گئی۔
UR
▧ 1 media
