افغان میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود کو ’’کیپٹن عمران علی‘‘ کہنے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ پاک فوج میں کمپنی کمانڈر تھا اور 26 نومبر 2024 کو اسے عوام پر براہِ راست فائرنگ کا حکم دیا گیا، جسے اس نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے مطابق اسی انکار پر اسے گرفتار کر کے غداری کے مقدمات میں نامزد کیا گیا۔ تاہم دستیاب پولیس ریکارڈ اور زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ شانگلہ پولیس کے مطابق عمران علی کو 16 ستمبر 2024 کو جعلی فوجی شناخت، نوسربازی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تلاشی کے دوران جعلی آرمی کارڈ، وردی میں تصاویر، متعدد سمز، بینک چیکس اور اسلحہ برآمد ہوا۔ مقامی افراد کے مطابق وہ ماضی میں بھی خود کو فوجی افسر ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتا رہا ہے۔ ضمانت کے بعد وہ غیر قانونی طور پر انگلینڈ جا کر خود کو سیاسی مظلوم ظاہر کر رہا ہے۔